متوازن غذا – صحت مند زندگی کی ضامن

اکثر ایک جملہ جو سماعتوں سے ٹکراتا ہے وہ ہے کہ اف میرا وزن کتنا بڑھ گیا ہے میں کیا کروں ؟ کچھ نا بھی کھاؤں تب بھی موٹاپے میں کوئی کمی نہیں۔۔۔۔۔ بہت ٹوٹکے کر لیے فاقے بھی، لیکن وزن ہے کہ کم ہونے کا نام نہیں لیے رہا ہے۔ان دونوں جملوں سے یہ ہی بات ثابت ہوتی ہے کہ ضرور کہیں نا کہیں ہم غذا میں موجود حرارے اور غذائی اجزا کا مناسب حصہ نہیں لے رہے۔اگر ہم اپنی غذا میں کیلوریز یعنی حرارے اور غذائی اجزا نیوٹرنٹس کا استعمال صیح رکھیں تو ہم اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے مستفید ہوسکتے ہیں۔متوازن غذا کے استعمال میں نہ ہی ہمارے وزن میں اضافہ ہوگا اور ننہ ہی کمی بلکہ ایک متوازن وزن کے ساتھ ہم چست و توانا زندگی بسر کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر ذیشان طارق  –  ماہر امراض قلب 

ہم عام طور پر سہل پسند ہیں اور چکنائی سے بھرپور غذا کے شوقین ۔اس کے باعث بہت سے افراد کے وزن میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔سارا دن دفتر یا گھر میں ایک ہی جگہ بیٹھ کر کام کرنا اور دوپہر، رات کو خوب تیل میں بنے کھانے تناول کرنے کے بعد سو جانا۔اس ہی سہل پسندی، مرغن کھانوں کے باعث ہم بہت سی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں جن میں ہائی بلڈ پریشر،موٹاپا ،دل کے امراض،شوگر اور دیگر امراض شامل ہیں۔اگر موٹاپے اور اس کے باعث ہونے والی دیگر بیماریوں سے بچنا ہے تو ہمیں اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔یہ تبدیلی بہت آسانی سے متوازن غذا اور ہلکی ورزش سے لائی جاسکتی ہے۔
ڈاکٹر ذیشان طارق (ماہر امراض قلب، معدہ ،جگر و آنت) کے مطابق وزن میں کمی کے لیے ضروری ہے کہ اپنی روز مرہ خوارک میں سے پانچ سو ہرارے اگر ہر روز مائینس کر دیں تو وزن بہت آسانی سے کم کیا جاسکتا ہے۔ایک پاؤنڈ فیٹ’چربی‘ تین ہزار پانچ سو حرارے کے برابر ہوتا ہے۔اگر آپ روز کھانے میں پانچ سو کیلوریز کم کردیں گے تو ہفتے میں آپ ایک پاونڈ فیٹ(موٹاپا)کم کرسکتے ہیں۔ خوارک میں لحمیات،نشاستے اور حیاتین پر مشتمل خوارک لی جائے۔اس کے ساتھ ورزش کی جائے تاکہ وزن میں اور کمی آئے ،ہفتے میں پانچ دن صرف تیس منٹ سے چالیس منٹ کی ورزش ایک ہفتے میں پچیس سو کیلوریز برن کردے گی۔ اس ورزش میں ہلکی واک ،رسی کودنا،جاگنگ کرنا شامل ہیں۔اس طرح آپ ہفتے میں بنا فاقہ کیے دو کلو وزن کم کرسکتے ہیں۔
اگر وزن مناسب کرنا مقصود ہو تو ایک نارمل آدمی اس روٹین کو اپنا سکتا ہے اور وزن کم کرسکتا ہے۔صبح فجر کی نماز کے بعد پندرہ سے بیس منٹ چہل قدمی کی جائے اور کھلی فضاء میں گہرے سانس لیے جائیں۔شروع میں بہت زیادہ دیر کے لیے جاگنگ یا واک نا کریں پندرہ منٹ کافی ہیں بتدریج اس کو تیس منٹ تک لے جائیں۔واک سے واپس آنے کے بعد ناشتہ لازمی کریں۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ناشتہ چھوڑ دینے سے وہ وزن کم کر لیں گے یہ ان کی خام خیالی ہے۔اگر آپ صبح ناشتہ نہیں کریں گے تو آپ سارا دن تھکاوٹ محسوس کریں گے ۔اس لیے ناشتہ لازمی ہے ۔آپ اپنی عمر وزن اور طبی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ناشتے میں غذا کا استعمال کریں۔ایک صحت مند فرد کے لیے ایک گلاس دودھ،براؤن بریڈ کا سلائس اور ابلا ہو انڈا بہترین ناشتہ ہے۔آفس یا تعلیمی ادارے میں پہنچنے کے بعد کوشش کریں کہ آپ لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کا استعمال کریں دوپہر گیارہ بجے کم شکر اور چکنائی کے بغیر دودھ کی چائے لیں اور اس کے ساتھ بھی بریڈ کا ایک سلائس یا بنا کریم کے بسکٹ کھائیں۔دو بجے تک لنچ لازمی کریں جس میں آپ آدھی چپاتی ،سلاد،سبزی،دال لے سکتے ہیں اس کے ساتھ پھل بھی اپنی صحت اور طبی مسائل کو زیر نظر رکھ کر استعمال کریں۔سیب،کینو کیلا،خربوزہ،گریپ فروٹ ہفتے بھر کے مینو میں شامل رکھیں۔ایک وقت میں ایک ہی پھل کافی ہے۔ناشتے سے لے کر لنچ تک پانی کا استعمال بھی زیادہ رکھیں۔تلی ہوئی اشیاء پراٹھے،فاسٹ فوڈ،چپس برگر،پکوڑے سموسے،کیک ،رول،چاٹ وغیرہ سے دور رہیں۔شام چار کے قریب اگر چائے کی طلب ہو تو اس کے بجائے گرین ٹی بنا شکر کے استعمال کریں۔دن میں ۲ بار اس کا استعمال طبی حوالے سے بہت مفید ہے۔اس کےساتھ گھر واپسی کے بعد کوشش کریں کہ کھانا رات آٹھ بجے تک تناول کر لیں۔رات کے کھانے میں ایک چپاتی لیں،اس کے ساتھ دہی ،بھاپ میں بنی مچھلی ،مرغی یا گوشت یا دال لیں۔اگر کھانے کے بعد میٹھا کھانے کا دل کرے تو تازہ پھلوں میں کسی ایک پھل کو کھایا جائے۔
شروع شروع میں انسان اس طرح کی روٹین سے گھبرا جاتا ہے اور اسے بھوک بار بار بے چین کرتی ہے اس لیے اگر کھانے کے علاوہ بھوک لگے تو پھل۔کچی سبزیوں،چھلی،ابلے ہوئے لوبیا،بھنے ہوئے چنے،دلیہ،دودھ اور دہی استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن اعتدال کے ساتھ۔اس بات کا خاص خیال رکھا جائے۔ اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو فاقے اس میں بالکل مددگار نہیں ہوتے۔ایک ایسی غذا جس میں نشاستے،چکنائی،لحمیات،حیاتین،پانی اور معدنیات کا مناسب حصہ شامل ہو آپ کے وزن کو کنٹرول کرسکتی ہیں ۔نمک کاا ستعمال کم سے کم کریں۔اس کے ساتھ جو لوگ مصروفیت کے باعث صبح واک نہیں کرسکتے وہ لازمی شام کو پندرہ سے تیس منٹ تک چہل قدمی کریں۔
اگر آپ سنجیدگی کے ساتھ اپنا وزن کم کرنے کے خواہشمند ہیں تو سب سے پہلے ڈاکٹر سے ملیں اپنے تمام ٹیسٹ کروائیں۔ان ٹیسٹ کی رپورٹ کی روشنی میں ماہر غذائیت آپ کو ایک غذائی پلان بنا کر دے سکتا ہے،جس سے آپ اپنا وزن بہت آسانی سے متوازن کرسکتے ہیں۔ایک پانچ فٹ پانچ انچ کی خاتون کی وزن کا صرف ۵۴ کلو گرام ہونا چاہیے اس ہی طرح ایک پانچ فٹ پانچ کے مرد کا وزن ٦۰ کلو ہونا چاہیے ۔اب آپ اندازہ کرسکتے ہیں ہم سب کا وزن کتنا زیادہ ہے یا کم ہے۔اس لیے ہم سب کو کم ازکم دن میں تین بار کھانا باقاعدگی کے ساتھ کھانا چاہیے جس کا بڑا حصہ اناج پر مشتمل ہو اس کے بعد پھلوں سبزیوں،پھر گوشت،دودھ اور سب سے آخر میں سب سے کم حصہ چکنائی کا شامل ہو۔اگر ہم متوازن غذا کو نہیں اپنائیں گے تو نا ہی ہم روزمرہ معمولات زندگی صحیح طور پر انجام دے سکتے ہیں نا ہی ترقی کرسکتے ہیں۔
.آج کل ٹی وی اور اخبارات میں بہت سی ادویات کے اشتہارات آتے ہیں کہ ہماری ادویات استعمال کریں اور آپ دنوں میں وزن کم کر جائیں گے ۔ہرگزبھی ایسی ادویات کا استعمال نا کریں یہ انتہائی مضر صحت ہیں

260total visits,1visits today

Leave a Reply

Your email address will not be published.