سرکہ ۔ دوا بھی،غذا بھی

ازقلم: ایس اے ساگر۔۔
ایک مشہور انگریزی کہاوت ہے کہ’دن بھر میں محض ایک سیب کا استعمال ڈاکٹر سے دور رکھتا ہے‘ وکٹوریائی عہد میں لوگوں کو انتہائی واضح اور سہل انداز میں صحت عامہ کا شاندار مشورہ دیا گیا تھاجبکہ وہ اپنے مشورے میں بہت درست تھے کہ ڈاکٹروں کو دور رکھنے کیلئے روزانہ ایک سیب کھائیں۔یہی کچھ سیب سے تیار سرکہ کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سیب کا سرکہ نئی ایجاد ہے جبکہ اس کا استعمال کافی پرانا ہے۔ایسے میں جبکہ ہر کس و ناکس غذائی اشیاءکی گرانی ‘غربت اور افلاس کا رونا رورہا ہے ‘ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوںفرمایاکہ’ سرکہ کتنا اچھا سالن ہے۔‘ حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا روایت فرماتی ہیں کہ ہمارے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا کہ’ کیا تمہارے پاس کھانے کیلئے کچھ ہے ؟‘تو میں نے کہاکہ’نہیں، البتہ باسی روٹی اور سرکہ ہے۔‘ فرمایا کہ’اسے لے آو ۔ وہ گھر کبھی غریب نہ ہوگا جس میں سرکہ موجود ہے۔‘مسلمانوں کیلئے سرکہ کی بطور غذا اور دوا کافی اہمیت ہے۔ اس کا ذکر احادیث میں آیا ہے۔ 
کیاہوتا ہے سرکہ؟
 سوال یہ پید اہوتا ہے کہ آخر یہ سرکہ کیا چیز ہے؟عربی‘فارسی اور اردومیں بیک وقت ایک ہی نام سے معروف سرکہ یاVinegarایک تیزابی مادہ ہوتا ہے جو عام طور پر ایتھنول یاشراب کی تبخیر سے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے آپ شراب کی اگلی شکل کہہ سکتے ہیں۔ انگور، گنا، جامن، سیب وغیرہ میں سے کسی کو برتن میں رکھ کر دھوپ میں رکھ کر بھی تیار ہو سکتا ہے جس میں اصل میں پھل سڑ کر سرکہ بنتا ہے۔ طب اسلامی، چینی طب وغیرہ میں فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ بعض احادیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعہ اس کے فوائد بیان کئے جاتے ہیں۔ یہ مسامات میں آسانی سے نفوذ کرتا ہے اس لئے بعض ادویہ کو سرکہ میں ملا کر دیا جاتا ہے۔
 سرکہ کی اہمیت:
حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکہ عقل کو تیز کرتا ہے اور اس سے مثانہ کی پتھری گل جاتی ہے۔اس کے علاوہ مسلم اطبانے اس کے بارے میں بہت لکھا ہے۔ مثلاً بو علی سینا کہتے ہیں کہ روغن گل میں ہم وزن سرکہ ملا کر خوب ملائیں۔ پھر موٹے کپڑے کیساتھ سرکہ کو رگڑ کر سر کے گنج پر لگائیں۔ انہی کے ایک نسخہ میں کلونجی کو توے پر جلا کر سرکہ میں حل کرکے لیپ کرنے سے گنج ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اسی مقصد کیلئے ادرک کا پانی اور سرکہ ملا کر لگانا بھی مفید ہے۔ بال اگانے کیلئے کاغذ جلا کر اس کی راکھ سرکہ میں حل کرکے لگانے کے بارے میں بھی حکمانے ذکر کیا ہے۔
 کیسے اور کہاں بنا؟
 اور ہزاروں سال سے اس کو کیسے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سرکہ بنی نوع انسان کیلئے ایک تحفہ ہے کیونکہ یہ قدرتیطور پر بننا ہے۔ سرکہ کی تاریخ دس ہزار10000 سال پرانی ہے موجودہ دور کی طرح اس زمانے میں بھی سرکہ چیزوں کو محفوظ کرنے، حسن کی حفاظت، گھریلو صفائی اور ادویات بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ سرکہ کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ vinum سے ماخوذ ہے جس کے معنی کھٹائی Khatai ہیں۔ BC 5000 میں Babylonians نے کھجور کا مربہ اور پھر کھجور کا سرکہ بنایا۔ بعد میں Romans نے انگور، انجیر اور کھجور سے سرکہ تیار کیا۔ اس کی مدافعتی خوبیوں کی وجہ سے Julius Caesar اور اس کی فوج پانی میں سرکہ ملا کر پیا کرتےتھے۔ BC 400 میں قدیم یونانی Hippocrates جس کو ‘The father of modern medicine’ کہا جاتا ہے اس نے سیب کے سرکہ اور شہد کو ملا کے بہت سی بیماریوں کی دوا بنائی۔
اجزا اور تیاری:
اس کے بنیادی اجزامیں خمض الخلیک Acetic acidشامل ہوتا ہے۔ قدرتی طور پر بنائے ہوئے سرکہ میں تارتارک تیزابTartaric acid اور سیٹرک تیزابCitric acid بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس کی کثافت 0.96 گرام فی ملی لیٹر ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر اسے شراب سے تیار کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ مسلمانوں میں شراب حرام ہے مگر سرکہ کو حلال کیا گیا ہے۔ اصل میں شراب میں خمض الخلیک Acetic acid کے بیکٹیریا تخسید oxidationکے ذریعے اسے شراب کو سرکہ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ شراب کی جگہ سڑے ہوئے پھلوں کا رس بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ شراب شراب نہیں رہتی اور سرکہ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس میں نہ نشہ رہتا ہے نہ شراب کی خبیث خصوصیات۔ اسے مصنوعی طریقہ سے بھی بنایا جا سکتا ہے جس میں ایک سست عمل کہلاتا ہے اور ایک تیز رفتار طریقہ بھی ہے۔ سست عمل سے بہتر اور روایتی سرکہ تیار ہوتا ہے لیکن اس کیلئے بھی کچھ سرکہ یا محلول ملانا پڑتا ہے جس میں خمض الخلیک Acetic acid کے بیکٹیریا شامل ہوں۔اس کی قسمیں ہوتی ہیں:
جو کا سرکہ:
اسے جو سے تیار کیا جاتا ہے۔ جو میں موجود نشاستہ کو مالٹوز میں تبدیل کیا جاتا ہے جس سے سرکہ بنتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسے جو کی شراب سے تیار کیا جا سکتا ہے
گنے کا سرکہ:
سرکہ گنے کے رس سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ یہ قسم ہند‘ پاک میں عام طور پر میسر ہے۔
پھلوں کا سرکہ:
سرکہ کو بے شمار پھلوں سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر کھجوریں، سیب، ناریل، کشمش وغیرہ استعمال ہوتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں مختلف پھلوں کی شراب کو سرکہ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ شراب شراب نہیں رہتی اور سرکہ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس میں نہ نشہ اور شراب کی بری خصوصیات باقی نہیں رہتیں۔
شہد کا سرکہ:
یہ قسم کمیاب ہے۔ زیادہ تر فرانس اور اطالیہ میں ملتی ہے۔
 سیب کا سرکہ :
سیب کے سرکہ میں پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، فاسفورس، کلورین، سوڈیم، کاپر، آئرن اور وٹامن کی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سیب کے سرکہ میں موجود پوٹاشیم دل کی بیماری اور بلڈپریشر میں مفید ہے۔ روزانہ ایک گلاس پانی میں ایک چائے کا چمچ سیب کا سرکہ ملا کر پی لیا جائے تو اس میں موجود پوٹاشیم خون کو پتلا کر کے بلڈپریشر کو کنٹرول رکھتی ہے۔
 ہارٹ اٹیک سے تحفظ:
 اکثر ہارٹ اٹیک خون میں کولیسٹرول اور چکنائی کی زیادتی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ AV میں پائے جانے والا فائبر کولیسٹرول اور چکنائی کو جذب کر کے فاسد مادے کے طور پر جسم سے خارج کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ AV میں موجود Dietary Fiber خون میں Glucose لیول کو بھی کنٹرول رکھتا ہے اس لحاظ سے یہ ذیابطیس میں بھی فائدہ دیتا ہے۔نبی کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سیب کے سرکہ کے استعمال کو فائدہ مند قرار دیا ہے اور اس کے بے شمار فائدے بیان فرمائے ہیں۔ کچھ لوگوں کو رات کو سوتے ہوئے ٹھنڈا پسینہ آتا ہے ایسے افراد سونے سے پہلے اپنے جسم پر سیب کے سرکہ کا مساج کریں تو پسینہ کی شکایت دور ہوجائے گی۔ Vomiting اور Diarrhea سے بچاو کیلئے چار دن تک دو چمچ سیب سرکہ ایک گلاس پانی میں ملا کے کھانے سے پہلے پی لیں۔ انسونیمیا کیلئے3 چمچہ سیب کا سرکہ ایک کپ خالص شہد میںحل کریںاور سونے سے قبل اور ہر آدھا گھنٹہ بعد ایک چائے کا چمچ استعمال کریں۔ جل جانے کی صورت میں متاثرہ حصہ پر دن میں دو مرتبہ سرکہ لگائیں۔ گلے میں خراش کی صورت میں پانی میں ڈال کر غرارے کرنے سے افاقہ ہوتا ہے۔
رکھیں احتیاط: سیب کا سرکہ چونکہ ترش ہوتا ہے سو یہ دانتوں کیلئے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے اس کے استعمال کے بعد دانتوں کو برش کرنا بہتر ہے۔
دوران خون:
سرکہ کے فوائد ہزاروں سال سے معلوم ہیں۔ جدید طب میں اس پر کچھ تحقیق بھی ہوئی ہے۔ جدید طب میں اسے واضح طور پر کولسٹرول اور ٹرائیگلیسرائیڈ Triglyceride کم کرنے کیلئے فائدہ مند مانا گیا ہے۔ یہ بھی پایا گیا کہ دل کے امراض میں ایک واضح کمی اس گروپ میں ہوئی جو سلاد میں سرکہ اور زیتون کے تیل کا استعمال کرتے تھے۔
ذیابیطس:
سرکہ کا استعمال جدید تحقیق میں ذیابیطس اور خون میں گلوکوز کی مقدار کو درست کرنے کیلئے فائدہ مند پایا گیا ہے۔ انسولین کی دریافت سے پہلے اسے اس مرض کیلئے استعمال کروایا جاتا تھا۔ جدید طبی تحقیق کے کئی تجربات میں اسے خون میں گلوکوز کی مقدار Triglycerideکم کرنے کیلئے واضح طور پر موثر مانا گیا ہے۔ یہ اثر نہ صرف ذیابیطس کے مریضوں میں نہیں پایا گیا بلکہ تندرست افراد میں بھی پایا گیا۔ بعض دیگر جدید طبی تجربات میں یہ پایا گیا کہ سرکہ کا کھانے میں کچھ عرصہ مسلسل استعمال خون میں شکر کی مقدار کو 30 فی صد تک کم کر کے ذیابیطس کو بہتر کرتا ہے اور یہ اثر قائم رہتا ہے۔ 
قدرتی حسن کا ذریعہ:
سیب کا سرکہ قدرتی خوبصورتی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ کم وقت میں چہرے کو نرم و ملائم کرنے کیلئے اپنے چہرے پر چند قطرے سیب کے سرکہ سے مساج کریں۔ نہاتے ہوئے ایک کپ سیب کا سرکہ باتھ پانی میں شامل کر لیں یہ جسمانی تھکاوٹ دور کرنے میں مدد کرتا ہے، جلد کو نرم و ملائم کرتا ہے اور بالوں میں چمک آتی ہے۔ ہربل ماہرین کے مطابق فیشل میں بھاپ لیتے ہوئے پانی میں چند قطرے سیب کا سرکہ ڈالیں یہ جلد کی گہرائی تک صفائی کر کے اسے چمکدار اور صحت مند کرتا ہے۔ زمانہ قدیم میں وزن کم کرنے کیلئے سیب کا سرکہ Egyptians کی خوراک کا اہم جزو رہا ہے۔ نہار منہ ایک چمچ سیب کا سرکہ ایک گلاس پانی میں ملا کر پینا، یا ہر کھانے سے پہلے پینا وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کیونکہ یہ حراروں کو جلاتا ہے اگر سیب کا سرکہ ترشی کی وجہ سے پینا مشکل لگے تو اس میں مٹھاس کیلئے ایک چائے کا چمچ شہد بھی ڈالا جا سکتا ہے۔
نظام انہضام:
طبی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سرکہ کا کھانے میں استعمال اس احساس کو بڑھا دیتا ہے کہ اب بھوک نہیں یعنی انسان کم کھاتا ہے اور اس طرح نظام انہضام بہتر رہتا ہے۔ کم کھانے سے اس سے متعلقہ امراض مثلاً ذیابیطس میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ 
قدیم طب میں استعمال:
اوپر درج کی گئی تحقیقات کے نتائج قدیم طب میں پہلے سے ہی معلوم تھے اور ان تمام مقاصد کیلئے سرکہ کو استعمال کیا جاتا تھا۔مندرجہ بالا تجربات قدیم طب میں ‘جس میں چینی و اسلامی طب بھی شامل ہیں‘ دی گئی باتوں کی تصدیق کیلئے جدید طب میں کئے گئے۔ ان تمام فوائد کے علاوہ قدیم طب میں درج ذیل فوائد بھی بتائے جاتے ہیں:
محلل، قابض، مجفف اور مسکنِ درد ہے۔ زائد رطوبت کو خشک کرتا ہے۔ مسامات میں جلد سرایت کرتا ہے اس لئے دوائی کو اس میں ملا کر دیا جاسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تلی میں سرکہ کیلئے خصوصی رغبت ہے۔ اس لئے سرکہ کی جو بھی مقدار پیٹ میں جاتی ہے، فوراً تلی میں داخل ہو جاتی ہے۔ اس لئے وہ ادویہ جو تلی کے علاج میں دی جائیں، اگر اس کیساتھ سرکہ بھی شامل کر دیا جائے تو اثر جلد ہوتا ہے۔بھوک پیدا کرتا ہے اور سدے کھولتا ہے۔ وبائی امراض مثلاً ہیضہ کے خلاف مدافعت پیدا کرتا ہے یعنی بیکٹیریا کے خلاف کام بھی کرتا ہے۔ سرکہ میں پکائے ہوئے گوشت کو یرقان میں مفید سمجھا جاتا ہے۔ پیاس کو کم کرتا ہے۔ پیٹ کے امراض میں مفید ہے۔ سر کے بالوں میں دیگر کچھ اشیاکیساتھ ملا کر لگانے سے گرتے ہوئے بال اگتے ہیں۔تاہم تمام امور میں ماہر اطباءسے مشورہ اور ان کی نگرانی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

623total visits,4visits today

Leave a Reply

Your email address will not be published.