شوگر بیماری میں مبتلا مریض کھجور کھا سکتے ہیں؟

آپ اپنی مرضی کے مطابق کھجور کو غذا میں شامل کرسکتے ہیں۔ خشک کھائیے یا دودھ کے ساتھ ملا کے، یا ڈرائی فروٹ کے ساتھ یا سلاد کے ساتھ کھائیے مگر یاد رہے کہ کھجور آپ کے روز مرہ کے حراروں کا ایک حصہ ہو اور اسے اضافی حراروں کے طوراستعمال نہ کیاجائے۔ عام انسان کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ جب وہ کھجور کھائے تو چاول کی مقدارکم کرے اور جو مریض کیلوریز(حرارے) کے حساب سے غذا لیتے ہیںوہ اپنے حساب سے مقررہ مقدار اپنی غذامیں شامل کرے۔ …… یہ کہ اگر آپ شوگر بیماری میں مبتلا ہیں تو آپ کھجور کھاسکتے ہیں مگر ’’ناپ تول کے‘‘!۔

شوگر بیماری میں مبتلا افراد کی اگرشوگر کی سطح نارمل حدود میں ہے تو وہ عام صحت مندافراد کی طرح ہر قسم کی غذا سے لطف اندوز ہوسکتاہے۔ جہاں تک شوگربیماری میں میں تغذیہ کا سوال ہے، اہم بات یہ ہے کہ شوگر بیمار ’’کتنا‘‘ کھاتا ہے نہ کہ ’’کیا‘‘ کھاتا ہے۔ اکثر بیماروں کو پرہیز کے نام پر گمراہ اور پریشان کیا جاتا ہے اور وہ بے چارے تنگ آکر اپنی قسمت کو کوسنے لگتے ہیں۔ اکثر مریض کسی بھی ’’شیرین‘ چیز کو چھونا بھی حرام سمجھتے ہیں ، وہ کھانا پینا ترک کرتے ہیں اور یوں دن بدن جسمانی طور کمزور ہوکر زیابیطس کی مختلف پیچیدگیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جن غذائوں میں کابوہائیڈریٹ (نشاستہ) اور ریشہ ہو، اُن کا استعمال شوگر بیماری میں نہ صرف مفیدہے بلکہ لازمی بھی ہے۔ اگر شوگر بیماری میں مبتلا مریض اپنی غذا میں کوئی میٹھی چیز شامل کرنا چاہتا ہے تو کھجور ایک بہترین میوہ ہے۔ یہ شوگر بیماری میں مبتلا مریضوں کے لئے ایک بے ضرر اور مفید غذا ہے۔ کھجور کھانے کے بعد خون میں شکر کی سطح ایکدم حدسے زیادہ نہیں بڑھتی ہے، ہر قسم کی غذا کا ایک گلیسمیک انڈکس ‘ہوتا ہے،یعنی کوئی چیز کھانے کے بعد خون میں کتنی دیر میں شوگر کی سطح بڑھتی ہے۔ بعض غذائوں کا جی آئی زیادہ اور بعض غذاوں کا کم ہوتا ہے۔اسی لئے شوگر بیماری میں مبتلا افراد کو زیادہ جی آئی والی غذائیں کھانے سے منع کیا جاتا ہے تاکہ اُن کے خون میں شوگر کی سطح کم وقت میں بہت زیادہ نہ ہوجائے۔ کھجور کا جی آئی کم ہے ،اس لئے عالمی سطح پر اکثر ڈاکٹر شوگر بیماری میں مبتلامریضوں کو کھجور کھانے کی ہدایت دیتے ہیں۔ کھجور کا جی آئی اس بات پر منحصر ہے کہ یہ میوہ کس درجے اور قسم کا ہے، اوسطاً کھجور کا جی آئی 3.5-5ہے۔

٭ کاربوہائیڈریٹ شوگر بیماروں کے لئے بے حد ضروری اور مفید ہیں، سوگرام کھجور میں 75گرام کاربوہائیڈریٹ موجود ہوتا ہے۔ اس کاروبوہائیڈریٹ میں گلوکوز، فرکٹوس، سکروس جیسے شکر موجود ہوتے ہیں۔ یہ تینوں قسم کے شکر فوری طور توانائی پہنچاتے ہیں۔ اگر دن بھر کام کرنے کے بعد شوگر بیمار غنودگی اور کمزوری محسوس کرے اور اس کے خون میں شوگر کی سطح گر گئی ہو تو تین کھجور کھاتے ہی اُسے پھر سے توانائی محسوس ہوگی۔

٭ کھجور میں غذائی ریشہ پایا جاتا ہے۔ ریشہ انسانی صحت بالخصوص نظام ہاضمہ کی فعالیت اور کارکردگی کے لئے ضروری ہے۔ یہ غذا ہضم کرنے اور آنتوں کی صحت برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ سوگرام کھجور میں 8گرام غذائی ریشہ پایا جاتاہے۔ کھجوروں میں ایک خاص قسم کا ریشہ، بیٹاڈی گلوکان پایا جاتا ہے۔ جو کولسٹرول کو جذب کرنے میں انتہائی اہم رول ادا کرنے کے علاوہ چھوٹی آنتوں سے شکر جذب کرنے کے عمل کو ٹالتا ہے۔ اس طرح خون میں شکر کی سطح اعتدال میں رہتی ہے۔

٭ کھجور میں چربی نہیں ہوتی ہے اور یہ معجزاتی میوہ انواع و اقسام کے مقوی اور مانع تکسیری اجزاء سے مالامال ہے۔ چوں کہ کھجور میں چربی نہیں ہوتی ہے اس لئے یہ موٹاپا اور شوگر بیماری میں مفید غذا ہے، بالخصوص اُن مریضوں کے لئے ،جن کا وزن زیادہ ہو اور جن کے جسم کے مختلف حصوں میں اضافی چربی کی تہیں جم گئی ہوں۔ اس بہشتی میوہ میں آھن، کیلشیم، فاسفورس، میگنیشم، مینگینز، جست، تانبہ اور وٹامن بی کمپلیکس کی موجودگی اسے شوگر بیماروں کے لئے اہم غذا بناتے ہیں۔ یہ انسولین کی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے جبکہ میگنیشیم خون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھنے کے لئے لازمی ہے۔اکثر شوگر بیمار زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر جنسی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں، تحقیقات سے ثابت ہوا کہ کھجور جنسی صحت کے لئے بے حد فائدہ مند ہے۔

آپ اپنی مرضی کے مطابق کھجور کو غذا میں شامل کرسکتے ہیں۔ خشک کھائیے یا دودھ کے ساتھ ملا کے، یا ڈرائی فروٹ کے ساتھ یا سلاد کے ساتھ کھائیے مگر یاد رہے کہ کھجور آپ کے روز مرہ کے حراروں کا ایک حصہ ہو اور اسے اضافی حراروں کے طوراستعمال نہ کیاجائے۔ عام انسان کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ جب وہ کھجور کھائے تو چاول کی مقدارکم کرے اور جو مریض کیلوریز(حرارے) کے حساب سے غذا لیتے ہیںوہ اپنے حساب سے مقررہ مقدار اپنی غذامیں شامل کرے۔ …… یہ کہ اگر آپ شوگر بیماری میں مبتلا ہیں تو آپ کھجور کھاسکتے ہیں مگر ’’ناپ تول کے‘‘!۔

1342total visits,1visits today

Leave a Reply

Your email address will not be published.