ٹی بی کیلئے غذائی پلان

 ازقلم:۔ ندیم دیویکر۔

ڈائٹ پلان سے پہلے، ٹی بی کے مریضوں کیلئے ضروری ہدایات:۔

۔۱) علامتیں:مسلسل ۳ ہفتہ کھانسی ، شام کے وقت بخار کا چڑھنا ، سانس کا تیز چلنا ، سینے میں درد، تھوک میں خون کا آنا،گردن پر (لمفی غدود )کا بڑھ جانا، کمزوری وتھکان ، بھوک نہ لگنا ، وزن میں کمی 

۔۲) ٹی بی کی جانچ تشخیص و علاج میونسپل ہیلتھ پوسٹ اور دواخانوں میں بالکل مفت دستیاب ہے

۔۳) مریض ٹی بی سے پوری طرح صحت مندہوسکتاہے ۔ دوائیوں کا کورس مکمل ہونے سے پہلے ہرگز ہرگز نہ چھوڑیں اور ساتھ ساتھ متوازن غذا ضرور کھائیں۔ورنہ ملٹی ڈرگ رزیزٹنس ٹی بی  لاحق ہوسکتی ہے۴

۔۴)ٹی بی کے علاج کے دوران بلا ناغہ تھوک کی جانچ  اور کلچر سینسی ویٹی ٹیسٹ  کی جانچ ضرور کرائیں۔

۔۵) ہر ماہ کی پہلی تاریخ کوبلا ناغہ اپنے وزن کی جانچ کریں اور اس بات پر خصوصی دھیان و توجہ دیں کہ دوائیاں کی قوت(پوٹینسی)آپکے موجودہ وزن کے مطابق ہونی چاہئے۔

۔۶) ٹی بی کی دوائیوں کا نام ، آپکا موجودہ وزن کے مطابق اسکی صحیح مقدار ( ڈوس) اور اسکے مضر ترین اثرات کا جاننا ضروری ہے۔دوا کھانے سے پہلے ایکسپائیری( ختم) تاریخ ضرور دیکھ لے

۔۷)دوائیاں لینے کے اوقات( یعنی کونسی دوائیاں خالی پیٹ، کھانا کھانے سے پہلے یا کھانا کھانے کے بعد لینی چاہئے)کا صحیح تعین ان دوائیوںکا خون میںجذب ہونے کیلئے اشد ضروری ہے

۔۸) اگر آپکو متلی ،الٹی ہو، بھوک نہ لگے ،پیٹ میں دور ہو ، ۳ یا اس سے زیادہ بخار ہو، پتلے دست و جلاب ہواور پیشاب کا رنگ گہرا ہو تو شاید کملا (جوئنڈس) ہوسکتا ہےفوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں

۔۹) سروگھٹنے میں درد ، تھکان، خارش ہو، ہاتھ یا بازوں میں جھنجھناہٹ ، چونٹی کے چلنے سا محسوس کرنے ،سنائی کم دینے ،توزان کے لڑکھڑانے ،بینائی کا دھنلا ہونے پر فوراً ڈاکٹرسے رجوع کریں

۔۱۰) پھپھڑوں سے خون آنا،پیشاب اور پاخانہ میں خون کا آنا ۔ان علامتوں کے ظاہر ہوتے ہی فورا ً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ان تمام علامتوں کے تعلق سے محتاط رہے۔ آپکی غفلت آپکے لئے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے ۔

۔۱۱)سگریٹ ، پان ،گٹکا،شراب ، چائے ،کافی ،سفید نمک اور شکر ، بازاری شربت( سافٹ ڈرنک ) اور بازار کے کھانے کی اشیاء ( فاسٹ فوڈ)سے پرہیز لازمی ہے۔

۔۱۲)برائے کرم اپنے گھر اور باہر دونوں جگہوں پر ٹی بی کے مرض کو پھیلانے کا ذریعہ نہ بنیں۔دوسروں کی زندگیوں کو ٹی بی سے محفوظ رکھنے کیلئے گھر اور باہرہمیشہ اپنے منہ اور ناک پرماسک یا رومال باندھے رہے۔ کافور ،لوبان اور اجوائن تینوں ۱۰گرام ایک پلاسٹک کی بوتل میں ڈالنے پر وہ پانی کی طرح رقیق ہوگا ،اسے ماسک یا رومال پرلگائے۔

۔۱۳) چھوٹے بچوںپر ٹی بی کے جراثیم آسانی سے حملہ آور ہوسکتے ہیں اور وہ ٹی بی سے جلد متاثر ہوجاتے ہیں اسلئے انہیں اپنے سے دور رکھیں۔اپنے خاندان کی صحت اور بہتری کے لئے بہتر ہوگا کہ مریض کا کمرہ اُس وقت کا علیحدہ رکھیں جب تک وہ مکمل طور سے صحت مند نہیں ہوجاتا۔

۔۱۴) برائے کرم مریض کے کھانے کے برتن علیحدہ رکھیںاور استعمال کے فوراً بعد ہی صابن سے دھولیں۔

۔۱۵) ٹی بی کی وہ مریضہ جو شادی شدہ ہیں اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ وہ حاملہ نہ ہو ۔ حاملہ ہونے کی صورت میں ماں اور بچے دونوں کی صحت پر بُرا اثر ہوسکتا ہے ۔

۔۱۶) اگر مریض کے گھر میں چھوٹے بچے ہیں تو برائے کرم ان بچوں کی بھی ٹی بی کی جانچ کرائیں۔

۔۱۷) اِدھر اُدھر( گھر اور باہر)نہ تھوکیں ۔اس طرح تھوکنے سے آپ دوسروں میں ٹی بی پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔سفر کے دوران تھوک آنے پر ٹشوپیپر میں تھوک کر اسے پلاسٹک تھیلی میں لپیٹ کر کچرے کے ڈبے میں ڈالیں۔اگر مریض بستر سے لگ چکا ہے یا اتنا کمزور ہے کہ چل نہیں سکتا تو اسے تھوک دان ہی میں تھوکنے کو کہے۔اس تھوک دان کو ہمیشہ بند رکھیں اور اس میں جراثیم کش دوا ڈالیں ۔گھر کے واش بیسن  میں تھوکنے کے فوراً بعد پانی سے بہا دے۔

۔۱۸) گھر کے ماحول کو جراثیم سے پاک کرنے کیلئے نیم ، تلسی ، کافور اور لوبان پاوڈر ایک ایک چمچہ لیکر لوہے کی پلیٹ میں جلائیںجو سلفروفوملین کے مضراثر سے پاک ہے۔

۔۱۹) گھر کے دروازے اور مریض کے کمرے کی کھڑکی پر پیاز اور نیم کے پتے لٹکائے یا رکھیں۔

۔ ۲۰) روزانہ طہارت خانہ ٹوائیلیٹ، غسل خانہ ، باورچی خانہ( کچن) اور کمرے کا فرش کی صفائی جراثیم کش دوا یا فینائل سے صاف کریں۔

۔۲۱) پینے کا پانی جوش آجانے کے بعد کم از کم ۱۰ منٹ تک ابلتے رہنے دے ۔ یا کم از کم اُسے صاف کرنے کیلئے پھٹکری استعمال کریں۔

۔۲۲) دوائیوں کے زہریلے اثرات سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے روزانہ کم ازکم ۸ سے ۱۰ گلاس پانی ضرور لیں۔

۔۲۳) کھانا ہمیشہ آہستہ آہستہ اطمینان کے ساتھ اچھی طرح چبا کر کھائیں ۔کھانے سے فوراً پہلے ،کھانے کے درمیان اور کھانے کے فوراً بعد پانی نہ استعمال کریں۔

۔۲۴) ذہنی تناو اور فکر پریشانی سے دوررہیں۔ ہمیشہ مثبت سوچ رکھیں ۔صحت مند اور متحرک زندگی جیئے۔آپکی صحت آپکے ہاتھ میں ہے ۔

۔۲۵)  سانس کی ورزش ٹی بی کے لئے مفید ہے۔دوپہر کے کھانے کے بعد۱۰ منٹ قیلولہ ( آنکھ بند کرکے لیٹ جانا) کریں۔

۔۲۶) طلوع ِ آفتاب کے فوراً بعد یا غروب آفتاب سے آدھا گھنٹہ پہلے سورج کی نرم دھوپ سے کم ا زکم ۱۰ منٹ تک غسل کریں اور گھر سے باہر نکل کر تازہ کھلی ہوا میںچہل قدمی کریں

۔۲۷) گھر میں دروازے کے مخالف سمت روشن دانی اور گھر سے باہر گندی ہوا پھینکے والا پنکھا   ضرور لگائے تاکہ تازہ اور صاف ہوا اور سورج کی روشنی کا گزر ممکن ہوسکے

ٹی بی کیلئے غذائی پلان

صبح اٹھنے پر ( ۶ بجے ): صبح نہار منہ خالی پیٹ۳سے ۴ گلاس نیم گرم پانی ایک سانس میں بناء رکے یا دومنٹ کے درمیان پی لیں۔۵ منٹ چہل قدمی کرنے کے بعد حاجت محسوس ہونے پر طہارت (ٹوائلیٹ)سے فارغ ہوجائے۔یہ بہت ضروری ہے۔

٭۶ بجکر ۱۵ منٹ: ایک چمچہ پیاز کا کچا رس پی لیں جو بلغم نکال باہرکرنے کے لئے کارگر ہے۔

٭۶ بجکر ۳۰ منٹ:۳سوکھی کھجور ( کھارک) اسٹیل کے برتن ( المونیم جرمن کے برتن استعمال نہ کریں)میں رات کو ایک گلاس پانی میں بگھوکر رکھے اورصبح اس کی بیج نکال کر اچھی طرح چبالیں اور اُس پانی میں شہد میں ملا کر اُسے پی جائے۔یہ پھیپھڑوں کو تقویت عطا کرتا ہے اور زہریلے فاسد مادے جسم سے خارج کرتا ہے ۔(ضروری)

ناشتہ۔ ۷ بجکر ۳۰ منٹ:ایک پھل:(سیب ، پپیتا، انار،انناس، تربوز، خربوز،نارنگی)+ایک چائے کا چمچہ بھونے ہوا کالے تل شہد کے ساتھ لیں+۱ یا ۲ نیم ابلا ہوا انڈا +سویا بین دودھ ۔دودھ ، پھل اور ترکاریوں کے مقابل پروٹین سویا بین میں زیادہ ہوتا ہے۔۱۲ گھنٹے پہلے ۲ بڑا چمچہ سویا بین بگھوئے۔صبح اسکا چھلکا نکال کر مکسچر میں اچھی طرح پیس کراس میں ۳ گناہ پانی ملاکر دھمی آنچ پر کچھ دیر رکھیں۔اب باریک کپڑے سے دبا کر مسل کر چھان لیں۔اس میں ایک کپ دودھ ملا کر ابالیں + ہفتہ واری لسٹ(اُوٹس یا جو کی کھیر :۴چمچہ اُوٹس یا جو گرم پانی میں ۱۰ منٹ بھگوکر رکھے تاکہ وہ پکھل جاے۔ اب اس میں ایک گلاس دودھ ملا کر ۳منٹ تک دھیمی آنچ پر گرم کرے/سابودانہ کھیر:آدھا کپ سابودانہ ۶ سے ۸ گھنٹے تک کیلئے پانی میں بگھو ئے اتنا کہ وہ پوری طرح ڈوب جائے ۔اب اس میں آدھا کپ پانی ملاکر دھیمی آنچ پر اُس وقت تک پکائے کہ جب وہ پوری طرح سے پکھل جائے ۔اب اس میں آدھا کپ دودھ ملا کر ابال کر پی جائے/ناچنی کی کھیر:۳ بڑا چمچہ ناچنی کا آٹادیسی گھی ( ڈالڈا گھی ہرگزنہ لیں )میں اُس وقت تک دھیمی آنچ پر بھونے کہ جب تک وہ بھورا ہو جائے اب اس میں ایک کپ دودھ ملا کر ابال کر پی جائے/سوجی کھیر : روا دیسی گھی میں بھون لے ۔ اب اس میں دودھ ملا کر ۱۵ منٹ تک پکائے اور شہد ملا کر مزید ۱۰ منٹ تک دھیمی آنچ پر پکائے /خشخش کی کھیر:۲ چمچہ خشخش ایک کپ پانی میں رات کو بگھوئے ۔صبح اسے مکسچر میں پیس کر اسے کپڑے میں ڈال کر نچوڑ کر اسکا دودھ نکال لے اور ایک کپ دودھ ملا کر ابال کر شہد ملا کر پی لیں /گیہوں کے دودھ کی کھیر:مٹھی بھر گیہوں ایک کپ پانی میں ۷ سے ۸ گھنٹے پہلے بھگو دے اور صبح وہ پانی پی لیں ۔اب اُس گیہوں کو مکسچر میں تھوڑا پانی ملا کر پیس لیں اور اسے صاف پتلے کپڑے سے نچوڑ کر اس میں ایک کپ دودھ ملا کر ابال لے اور اس میں شہد ملا کر پی جائے/ہری مونگ دال : مٹھی بھر ہری مونگ ایک کپ پانی میں ۷ سے ۸ گھنٹے پہلے بھگو دے ۔صبح وہ پانی پی لے ۔ اب اُس ہری مونگ کو کچا چبالیں/ کالاچنا دال:مٹھی بھر کالا چنا ایک کپ پانی میں ۷ سے ۸ گھنٹے پہلے بھگو دے اورصبح وہ پانی پی لیں ۔اب اس میں شہد یا گڑ ملا کر کچا چبا لیں ۔اور اگرہاضمہ کمزور ہو تو اُبال کر کھائیں۔

٭صبح ۱۰ بجے: تازہ گاجر کا رس( جوس)/نارنگی کا رس ایک چٹکی بھر کالا نمک اور ایک چمچہ شہد ملا کرلے/انناس کا رس( چھوٹاچھوٹا گھونٹ لے کرمنہ میں رکھے اور آہستہ آہستہ نگلے) رس ( جوس) نکالنے کے فوراً بعد ہی مکسچر کا پیالہ فوراًگرم پانی اور صابن سے دھولے ورنہ اُس مکسچر کے جار میں بیکٹریا پیدا ہوسکتے ہیں ۔ رس ( جوس) کے نکالتے ہی فوراً پی جائے ورنہ اُس میں ہوا کے ملنے سے دھیرے دھیرے اسکے اجزاء کی تاثیر ختم ہوتی جاتی ہے۔

٭دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے سے ۱ یک گھنٹہ پہلے(۱۱بجکر ۳۰ منٹ اور ۶ بجے) پر:ایک گلاس نیم گرم پانی آہستہ آہستہ گھونٹ گھونٹ لے کر پی جائے۔

٭دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے(۱۲ بجے ا ور ۶ بجکر ۳۰منٹ)پر: ادرک کا چھوٹا سا ٹکرا چبا ئے جس سے جگر کا فعل اچھا ہوگا اور بھوک لگے گی۔

٭دوپہرکا کھانا( ۱۲ بجکر ۳۰ منٹ) پر:سوپ:( سوپ کیلئے ادرک کے باریک ٹکڑے،لہسن کی۴ کلیاں ، پاو چمچہ ہلدی،پاو چمچہ کالی مرچ، کری پتہ، ہرادھنیہ ، پاو چمچہ رائی ، پاو چمچہ زیرہ ، پاو چمچہ میتھی اور ایک چمچہ لیمو کا رس ملا کر ابال لے) کیکڑا/ پالک/ چولی(ہری اور لال)/ بھنڈی ( ۴ انچ سے چھوٹی)اور ٹماٹر/ لال کدو/ لوکی دودھی ( ٹی بی جراثیم کے مقابل قوت مدافعت پیدا کرتی )/پھلی/ لال مسور دال / توری + دال ایک پیالہ ( ابال ہوا) ہری مونگ دال +راجما( آدھا کپ رات کو پانی میں بگھوئے اور دوپہر کے کھانے سے پہلے ابالیں اور رات کیلئے صبح بگھوئے اور رات کے کھانے سے پہلے ابا لیں+ ۴ گیہوں کی روٹی (۱۰۰ گرام سویا بین ایک کلو گیہوں میں آٹاپیسنے سے پہلے ملائیں) + سلاد:پودینہ ،کچی پیاز،گاجر ، مولی ،لال شلجم(بیٹ)،پتہ گوبھی، انکھوانکلا ہوا ہری مونگ اور مٹکی (ان پرکالی مرچ، لیمو کارس ڈال سکتے ہیں لیکن نمک و مسالے نہ ڈالیں) + لوکی/ دودھی کا رایئتہ:لوکی کو باریک باریک کاٹ لے۔ پاو کپ پیاز کے باریک ٹکڑے ، ایک کپ دہی اور ۲ چمچہ بھونی ہوئی مونگ پھلی(سینگ) + میٹھا دہی یا ایک گلاس چھاچھ۔

٭دوپہر کے کھانے کے ۲گھنٹہ بعد(۲ بجکر ۳۰ منٹ)پر:۲گلاس نیم گرم پانی آہستہ آہستہ گھونٹ گھونٹ لے کر پی جائے۔

٭۳ بجکر ۳۰ منٹ پر:صبح ۹بجے ایک چائے کا چمچہ میتھی کے بیج ایک کپ پانی میں بگھودے اور اسکا پانی پر کر اس میتھی کے بیج کو کچاچبا جائے۔

٭۴ بجکر ۳۰ منٹ پر:ایک کپ دودھ میں ۲ عدد لہسن کی پھانک لے کر اس میں ایک کپ پانی ملاکر اتنا ابالے کہ وہ آدھا رہ جائے ۔اب آہستہ آہستہ گھونٹ گھونٹ لیکر پی جائے۔

٭۵ بجکر ۳۰ منٹ پر:نیم ، پیپلی ، سونٹھ ،کالی مرچ اور تلسی کا پاوڈر سب یکسا ں۵ گرام یا ۳ سے ۵ پتے اور ۲ عدد لونگ لیکر ان سب کو ایک گلاس پانی میں اتنا ابالے کہ آدھا رہ جائے۔

٭ رات کے کھانے سے ۱ یک گھنٹہ پہلے( ۶ بجے) پر:ایک گلاس نیم گرم پانی آہستہ آہستہ گھونٹ گھونٹ لے کر پی جائے۔

٭ رات کے کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے( ۶ بجکر ۳۰منٹ)پر: ادرک کا چھوٹا سا ٹکرا چبا ئے جس سے جگر کا فعل اچھا ہوگا اور بھوک لگے گی۔

٭رات کا کھانا (عشائیہ) : ۷ بجے پر: دوپہر کے کھانے کا پروگرام پر عمل کریں۔

٭ رات کے کھانے کے ۲گھنٹہ بعد( ۹ بجے)پر:۲گلاس نیم گرم پانی آہستہ آہستہ گھونٹ گھونٹ لے کر پی جائے۔

٭سوتے وقت( ۱۰ بجے) پر:ایک چمچہ ترپھلا (ہرڑا، بہڑا ، آملہ)نیم گرم پانی کے ساتھ لے۔

ٹی بی کے لئے سانس کی ورزش
مردہ آسن : صبح اٹھنے کے بعد اور رات کو سوتے وقت پیٹھ کے بل لیٹ جائے ۔اب جسم کے تمام اعضاء کو آہستہ آہستہ بستر پر ڈھیلا چھوڑ دے ۔پیر سے لیکر سر تک جسم سے تناو کو خارج کرے اور صرف اپنی سانس پر توجہ دے ۔۱۰ منٹ بعد اپنی بائیں باوز مڑ کر آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں۔
پیٹ سے سانس لینا:( خالی پیٹ اور کھانے کے ۲ گھنٹے بعد): اپنی منہ سے ہوا خارج کرتے ہوئے ہاتھوں سے پیٹ کو اندر کی طرف آہستہ سے دبائے۔اب منہ بند کرکے ناک سے لمبی سانس لیتے ہوئے پیٹ سے اپنا ہاتھ ہٹا کر آہستہ سے پیٹ کو اوپر کی طرف چھوڑے۔یہ عمل کم از کم۱۰ منٹ تک کرے۔

” ہاراُس وقت آخری اور یقینی نہیں ہوتی جب آپ گر پڑتے ہیں۔ البتہ اُس وقت یقینی ہوجاتی جب آپ گر کر دوبارہ اٹھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔”

تیار کردہ: ندیم دیویکر 9769928390۔nadeemdivekar@gmail.com

623total visits,1visits today

Leave a Reply

Your email address will not be published.